نئی دہلی، 17؍اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ مہاراشٹر میں جنم آشٹمی کے موقع پر دہی ہانڈی تقریب میں 18سال سے کم عمر کے نوجوان حصہ نہیں لے سکتے۔اس کے ساتھ ہی عدالت عظمی نے یہ بھی کہا ہے کہ دہی ہانڈی کے لیے بنائے جانے والے پرامڈ کی اونچائی 20فٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ، یہ حد ممبئی ہائی کورٹ نے طے کی تھی۔جسٹس اے آر دوے اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی بنچ نے ایک عرضی پر نئے سرے سے غور کرتے ہوئے اس سال اکتوبر میں سماعت کا فیصلہ کیا۔حالانکہ بنچ نے دہی ہانڈی تقریب کے قوانین کے لیے ہائی کورٹ کی جانب سے جاری دو دیگر ہدایات کی تعمیل کو معطل کر دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے معطل کی گی ہائی کورٹ کی ہدایات 18سال سے کم عمر کے بچوں کو خطرناک پروگرام میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم سے منسلک ہے۔کورٹ نے اس ہدایت کو بھی معطل کر دیا، جس میں گونداؤں کی پیدائش سرٹیفکیٹ پر درج تاریخ پیدائش کو جانچنے والے افسران سے 15دن پہلے منظوری لینے کی بات کہی گئی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی کم عمر کا بچہ اس میں حصہ نہیں لے رہاہے ۔سماعت کے دوران بنچ شرکاء کی کم از کم عمر اور پرمڈ کی زیادہ سے زیادہ اونچائی کے معاملے پر رضامند ہو گیا۔سپریم کورٹ نے 10؍اگست کو دہی ہانڈی کے لیے بنائے جانے والے انسانی پرامڈوں کی اونچائی کو 20فٹ تک محدود کرنے والے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج دینے والی ایک درخواست پر نئے سرے سے غور کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حکم جاری کرنے سے پہلے اس کو مفاد عامہ کی عرضی کی بات سننے کی ضرورت ہے۔
کورٹ نے سماجی کارکن سواتی سائے جی پاٹل سے جواب طلب کیا تھا۔سواتی نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کرکے مہاراشٹر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ریاستی حکومت ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنے میں ناکام رہی تھی۔مہاراشٹر حکومت نے اس سے پہلے سپریم کورٹ سے رابطہ کر کے اس کے 2014کے حکم پر وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔اس فیصلہ کے ذریعے ہائی کورٹ نے دہی ہانڈی میں 18سال سے کم عمر کے لوگوں کی شرکت پر پابندی لگا دی تھی۔ہائی کورٹ نے 11؍اگست 2014کو سواتی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا کہ انسانی اہرام کی اونچائی 20فٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور 18سال سے کم عمرکے بچوں کو اس میں حصہ نہیں لینے دیا جائے چاہیے ۔تب ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے شروع میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کو معطل کر دیا تھا اور بعد میں اس نے اس کو چیلنج کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔مہاراشٹر حکومت نے یہ کہا تھا کہ چونکہ عدالت عظمی نے انسانی اہرام کی اونچائی کو لے کر ہائی کورٹ کی جانب سے لگائی گئی پابندی پر کوئی رائے نہیں دی ہے، اس لیے وہ اس کے پہلے کے حکم کو ماننے کے پابند نہیں ہے۔تاہم ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے اس پہلو پر وضاحت طلب کرے کہ جب تک وہ اس فیصلہ کو درکنار نہیں کرتی، تب تک ہائی کورٹ کا فیصلہ لاگو رہے گا۔